سوال

ایک کسان نے ایک شخص سے 30 ہزار روپے لیے اور کہا:میں اب جو چنے کی فصل کاشت کروں گا،اس کا تیسرا حصہ تمہارا ہو گا۔کاشت کار نے اس رقم سے کچھ کاشت میں لگائی اور بقیہ اپنے پاس محفوظ رکھی تھی۔اب فصل کسی وجہ سے ہلاک ہوگئی ہےتو اس معاملہ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا اب کسان پر اس رقم کا واپس کرنا لازم ہے؟جبکہ رقم دینے والا آدمی اپنی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

آدمی کچھ رقم قرض دے کر دوسرے کی فصل میں متعین حصہ کا شریک بن جائے،یہ واضح سود اور صریح حرام ہے،ایسی صورت میں شرعاً قرض دینے والا فقط اپنی رقم کا حق دار ہے۔فصل کی کسی مقدار کا نہ وہ حق دار ہے اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

لما فی السنن الکبری للبیھقی:(5/573،DKI بیروت)
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1442/2021/5/5
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:155

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔