الجواب حامداً وّمصلّیاً
آدمی کچھ رقم قرض دے کر دوسرے کی فصل میں متعین حصہ کا شریک بن جائے،یہ واضح سود اور صریح حرام ہے،ایسی صورت میں شرعاً قرض دینے والا فقط اپنی رقم کا حق دار ہے۔فصل کی کسی مقدار کا نہ وہ حق دار ہے اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
لما فی السنن الکبری للبیھقی:(5/573،DKI بیروت)
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1442/2021/5/5
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:155