سوال

ایک شخص نے بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح کر لیا،رخصتی بھی ہو گئی،اب یہ نکاح تو باطل ہے۔لیکن کیا اس عورت(سالی) پر عدت لازم ہے؟اگر لازم ہے تو کتنی؟اور کیا دوران ِعدت وہ اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر سالی کے ساتھ نکاح کرنے کے بعد جماع کر لیاتو سالی پر عدت لازم ہو گئی،لہذا اگر سالی کو حیض آتا ہےتو اسکی عدت تین حیض ہےورنہ تین مہینے ہےاور سالی کی عدت پوری ہونے تک یہ شخص بیوی کے ساتھ جماع نہیں کر سکتا۔

لما فی  تنویر الابصار مع الدرالمختارورد المحتار: (4 / 126 ،رشیدیہ )
وان تزوجھا معاً)ای الاختین او من بمعناھما(او بعقدتین ونسی)النکاح(الاول فرق)القاضی(بینہ وبینھما)فلو علم فھو الصحیح والثانی باطل،ولہ وطاءالاولیٰ الا ان یطاالثانیۃ فتحرم الاولیٰ الی انقضاء عدۃ الثانیۃ
وفی بدائع الصنائع: (2 /  540،رشیدیة )
 ولو تزوج الاختین معاً فسد نکاحھما۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان تزوج احداھما بعد الاخری جاز نکا ح الاولیٰ وفسد نکاح الثانیۃولا یفسد نکاح الاولیٰ لفساد نکاح الثا نیۃ،لان الجمع حصل بنکاح الثانیہ فاقتصر الفساد علیہ،ویفرق بینہ وبین الثانیۃ،فان کان لم یدخل بھا فلا مھر  ولا عدۃ ،وان کان دخل بھا فلھا المھر وعلیھا العدۃ،ولا یجوزلہ ان یطاءالاولیٰ ما لم تنقض عدۃ الثانیۃ
وکذافی  فتاوی التاتارخانیة: ( 4/  61،فاروقیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 1/ 277 ،رشیدیہ )
وکذافی فتاوی قاضیخان : (1 /  364،رشیدیہ )
وکذا فی  المحیط البرھانی: (4 / 106 ،دار احیاء تراث العربی )
وکذافی الشامیة: ( 5/  202،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی قاضیخان : (1/  549،رشیدیہ )
وکذافی  الھندیة: (1 / 526 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/11/16/20/4/1444

جلدنمبر:28 فتوی نمبر :44

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔