سوال

ایک خاتون کا انتقال ہوا،وہ اپنے مرحوم شوہر کی بیوی تھی اورلاولد تھی ،اس کے ورثاء کا کہیں پتہ نہیں چل رہا،تو اسکی وراثت کا کیا کیا جائے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کو تمام رفاہی کاموں پر صرف کیا جا سکتا ہے ،البتہ دیتے وقت اس بات کا خوب خیال کرنا چاہیے کہ جس ادارے کودیں وہ بااعتماد ہو۔

لما فی  بدائع الصنائع: (2 /197  ،رشیدیہ )
 والرابع :ما اخذ من ترکۃ المیت الذی مات ولم یترک وارثاًاصلاًاو ترک زوجاً او زوجۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  واما النوع الرابع :فیصرف الیٰ دواء الفقراء والمرضیٰ وعلاجھم والیٰ اکفان الموتیٰ الذین لا مال لھم
وفی فتاوی الھندیة: (1 /  191، رشیدیہ)
وما اخذ من ترکۃ المیت مات ولم یترک وارثا او ترک زوجاًاو زوجۃ،وھذاالنوع یصرف الی نفقۃ المرضیٰ وادویتھم وھم فقرآء والی کفن الموتیٰ الذین لا مال لھم
وکذافی المبسوط: ( 3/18  ،دار المعرفة)
وکذا فی الدر المختار : ( 3/  331، رشیدیہ)
وکذافی المو سوعة الفقھیة : (8 /  250، علوم اسلامیہ)
وکذا فی الکتاب المصنف ابن ابی شیبہ: (6 /300  ،دار الکتب العلمیہ )
وکذافی النھر الفائق : (3 /234  ،قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (6 / 4586 ، رشیدیہ )
وکذافی  السراجی: (2   ، شرکت علمیہ)
وکذا فی  المو سوعة الفقھیة المقارنة: (8 /  3933،محمودیہ )

واللہ اعلم  بالصواب

محمد مجیب الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/11/24/20/4/1444

جلد نمبر :28 فتوی نمبر:166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔