الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں امام اور مقتدیوں کی ان چھ ماہ کی نمازیں نہیں ہوئی،لہذا قضاء کریں ۔اور امام کو چاہیے،کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے مقتدیوں کو اطلاع کرے،تاکہ وہ اپنی نمازوں کی اقتداء کر لیں۔
لما فی الشامیة: ( 2/ 462،رشیدیہ)
ولو أدخل الفانید أو السکر فی فیہ ولم یمضغہ لکن یصلی والحلاوۃ تصل الیٰ جوفہ تفسد صلاتہ
وفی مراقی الفلاح: (296، قدیمی کتب خانہ)
وان ظھربطلان صلاۃامامہ)بفوات شرط اورکن(اعاد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویلزم الامام)الذی تبین فساد صلاتہ (اعلام القوم باعادۃصلاتھم بالقدر الممکن) ولو بکتابٍ او رسولٍ
وکذافی فتاوی الھندیة : (1 /102 ، رشیدیہ )
وکذا فی مراقی الفلاح : (334، قدیمی کتب خانہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدرالمختار: (1 / 591 ،سعید )
وکذا فی الشامیة : (1 / 591 ،سعید)
وکذافی الصحیح المسلم: (1 /209 ، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 /1216 ، رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق : (2 /19 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی: ( 1/251 ، طارق)
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمن غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/27/2/5/1444
جلد نمبر : 28 فتوی نمبر : 127