الجواب حامداً ومصلیاً
مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔
(1)
جنازہ،امام،اور مقتدی سب مسجدکے اندرہوں۔
(2)
صرف جنازہ مسجد سے باہر ہو،باقی سب مسجد کے اندر ہوں۔
(3)
جنازہ،امام،اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں باقی مقتدی مسجد کے اندر ہوں۔
ان تینوں صورتوں میں پہلی صورت بالاتفاق مکروہ ہے اور تیسری بالاتفاق مکروہ نہیں اور دوسری کی کراہت مختلف فیہ ہے لہذا بارش یا شدید گرمی وغیرہ کے عذر سے اس کی بھی گنجائش ہے۔
لما فی فتاوی قاضیخان: (4 /79 ،رشیدیہ )
وفی الصغری یکرہ صلاۃ الجنازۃ فی مسجد الجماعۃ بکل حالٍ ،وفی کراھیۃ الجامع الصغیر اختلف فیما اذا کان بعض القوم خارج المسجد،وفی فتاوی النسفی صلاۃ الجنازۃ فی مسجد الجماعۃ علی ثلاثۃ اوجہٍ اذا کان الکل فی المسجد یکرہ بالاتفاق وان کانت الجنازۃ وصف خارج الجماعۃ والباقی فیہ لایکرہ بالاتفاق،وان کانت الجنازہ وحدھا فی الخارج فتختلف والحلوانی علی اختیار الکراھۃ
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 595 ،قدیمی کتب خانہ )
وتکرہ صلاۃ الجنازۃ فی مسجد جماعۃ (وھو) ای المیت (فیہ )کراھۃ تنزیھیۃ فی روایۃ،ورجحھا المحقق ابن الھمام وتحریم فی اخری،والعلۃ فیہ ان کان خشیۃ التلویث فھی تحریمۃ، وان کان شغل بما لم یبن لہ فتنزیھیۃ،والمروی (قولہ ) (من صلی علی جنازۃ فی المسجد فلاشیئ لہ )وفی روایۃ فلا اجرلہ (او )کان المیت (خارجہ )ای المسجد مع بعض القوم (و)کان (بعض الناس فی المسجد) او عکسہ ،ولو مع الامام ( علی المختار) کما فی فتاوی الصغری خلافاً لما اوردہ النسفی من ان الامام اذا کان الخارج المسجد مع بعض القوم لا یکرہ بالاتفاق لما علمت من الکراھۃعلی المختار
ثم محل الکراھہ اذا لم یکن عذر فان کان فلا کراہۃ اتفاقاً،فمنہ اعتکاف المصلی کما فی المبسوط،ومنہ المطر،کما فی الخانیۃ
وکذافی فتاوی الھندیة: ( 1/165 ،رشیدیہ ) وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار : (2 / 224 ،سعید )
وکذافی خلاصة الفتاوی : ( 1/222 ، رشیدیہ ) وکذا فی الفقہ الاسلامی: ( 2/ 1535 ، رشیدیہ)
وکذافی المختصر القدوری: (186 ،البشری ) وکذا فی الھدایة: (1 /288 ،البشری )
وکذافی غنیة المتملی : (588 ، رشیدیہ ) وکذا فی کتاب الفقہ: ( 1/ 446،حقانیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/30/5/5/1444
جلد نمبر :28 فتوی نمبر : 188