سوال

اگر کسی عورت کو نمازپڑھنے کے دوران حیض آنا شروع ہو جائے،تو اس عورت کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر فرض نماز کے دوران حیض کا خون آنا شروع ہواتو نماز ساقط ہو جائے گی،قضا واجب نہیں،لیکن اگر نفل یا سنتوں کے دوران حیض جاری ہواتو قضاواجب ہے۔

لما فی الفقہ الحنفی : (1/ 120 ،طارق )
وکذالک لو شرعت فی صلاۃ التطوع أوالسنۃ ظھر الدم أثناءھا فسدت ،ویجب علیھا قضاؤھا،فلا فرق بین الشروع فی الصوم والصلاۃ،کما قال العلامۃ ابن عابدین بخلاف صلاۃ الفرض فانھا لا تجب بالشروع وانما وجبت بالنصوص الشرعیۃ
 وفی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 1/482  ،فاروقیہ )
شرعت فی صلاۃ التطوع أوالصوم، فحاضت تقضی وفی الفرض لا
وکذافی الدر المختار مع الدر المحتار : (1/533  ،رشیدیہ )
وکذا فی الجوھرة النیرة : (1 / 91 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذافی فتاوی الھندیہ : (1 /38  ، رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة : (18 /315  ،علوم اسلامیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 1/625  ، رشیدیہ )
وکذا فی الھدایة : (1 /114  ،بشری )
وکذافی المبسوط : ( 3/152  ،دار المعرفة )
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 1/401  ،دار احیاء تراث العربی )

واللہ اعلم بالصواب

  محمد مجیب الرحمن غفرلہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

12/12/2022/17/5/1444

 جلدنمبر :28 فتوی نمبر :174

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔