سوال

لڑکا اور لڑکی آپس میں بغیر گواہوں کے نکاح کر سکتے ہیں؟اور اگر کر لیاتو کیا اس کے بعد میاں ،بیوی والاتعلق زنا کے حکم میں ہو گا؟اور کیا اس بنیاد پر حد بھی جاری ہو گی ،اگر گواہوں سے ثبوت ہو جائے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

گواہوں کا ہونا ضروری ہےاس کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔لیکن اگر کسی نےبغیر گواہو ں کے نکاح کرلیا تو میاں بیوی پر فوراً جدائی ضروری ہےخواہ میاں بیوی والے تعلقات قائم کیے ہوں یا نہ کیے ہوں۔البتہ میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیےتو اگرچہ یہ گناہِ کبیرہ ہے لیکن اس کے باوجود کچھ احکام ثابت ہو جائیں گے۔(1) خاوند پر مہر لازم ہو جائے گاوہ مہر جو مہرِمتعین اور مہرِمثلی میں سے کم ہو(2) عورت پر عدت واجب ہو جائیگی(3)اگر بچہ پیدا ہو گیا تو اسکا نسب بھی ثابت ہو جائے گاوغیرہ،البتہ میاں بیوی والےتعلقات قائم کرنے کی وجہ سے قاضی ان پر بطورِسزا کے حدِزنا تو جاری نہیں کرے گا لیکن تعزیراًجوسزا مناسب سمجھے ان کو دے گا۔

لما فی بدائع الصنائع : (2 /651  ،رشیدیہ )
واما النکاح الفاسد فلا حکم لہ قبل الدخول،واما بعد الدخول فیتعلق بہ احکام، منھا ثبوت النسب ومنھا وجوب العدۃوھو حکم الدخول فی الحقیقۃ ومنھاوجوب المھر
وفی تنویر الابصار مع الدرالمختارورد المحتار (4 /  266،رشیدیہ )
ویجب مھر المثل فی نکاحٍ فاسدٍ) وھو الذی فقد شرطاًمن شرائط الصحۃکشھودٍ (بالوطء)قولہ(فی نکاح فاسد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیسقط الحد ویثبت النسب ویجب الاقل من المسمیٰ ومن مھر المثل
وکذافی الھندیة : (1 /  267،رشیدیہ )                               وکذا فی تنویر الابصار مع الدرالمختار : (4 /98  ، رشیدیہ )
وکذافی فتاوی التاتارخانیہ : (4 /36  ،فاروقیہ )                          وکذا فی فتاوی التاتارخانیہ : ( 4/77  ، فاروقیہ )
وکذافی بدائع الصنائع : ( 2/65  ، رشیدیہ )                   وکذا فی الھندیة: ( 1/330  ، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/ 6602 ، رشیدیہ )                 وکذا فی المبسوط : ( 5/  30،دارالمعرفة )
وکذافی شرح العینی : ( 1/192  ،ادارة القرآن کراچی )               وکذا فی  جامع الترمذی: (1 /337  ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/12/13/18/5/1444

جلد نمبر :28 فتوی نمبر : 173

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔