سوال

تجارت کی غرض سے جو پلاٹ خریدا گیا ہو،کیا اسپر زکوٰۃ ہو گی یا نہیں؟اگر ہو گی تو کب ہو گی فروخت کرنے کے وقت یا ہر سال؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر تجارت کی نیت سے خریدنے والا”صاحبِ نصاب “ہے تو جب تک تجارت کی نیت باقی ہے اسپر ہر سال زکوٰۃہو گی۔

لما فی الھندیة: (1 /179  ،رشیدیہ )
الزکاۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃما کانت اذا بلغت قیمتھا نصاباً من الورق والذھب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وتعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد ان تکون قیمتھا فی ابتداء الحول مائتی درھم من الدراھم الغالب علیھا الفضۃ
 وفی الھدایة(1 /314  ،بشری )
  الزکاۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃما کانت اذا بلغت قیمتھا نصاباً من الورق والذھب
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار : (2 /298  ،سعید )
وکذا فی فتاوی قاضیخان : (1 / 250 ،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /163  ،دار احیاءتراث العربی )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 3/1814  ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع : (2 /92  ،رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ : (1 / 515 ،حقانیہ )
وکذافی کنز الدقائق : ( 60/  حقانیہ )
وکذا فی  الفتاوی التاتارخانیہ: (3 /164  ،فاروقیہ )
واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/12/31/7/6/1444

جلد نمبر : 28 فتوی نمبر : 191

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔