سوال

ایک شخص نے تقریباً پانچ مرتبہ اپنی بیوی کو کہا کہ میں تمھیں طلاق ہوں،تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس شخص نے” طلاق دیتا ہوں“ سے یہ مراد لیا تھاکہ ”ابھی اور اسی وقت طلاق دے رہا ہوں“ (اکثر یہی معنی مراد لیا جاتا ہے) تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہو گئیں اور اگر وہ قسم کھا کر کہہ دے کہ میری مرادیہ تھی کہ” میں طلاق دے دوں گا“ تو کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

لما فی تنقیح الفتاوی الحامدیة : ( 1/82  ،قدیمی کتب خانہ )
صیغۃ المضارع لا یقع بھا الطلاق الا اذا غلب فی الحال کما صرح بہ الکمال بن الھمام
وفی الھندیة (1 /384  ،رشیدیہ )
لو قال بالعربیۃ أطلق لا یکون طلاقاً الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقاً
وکذافی الدر المختار : (3 / 319 ،سعید )
وکذا فی الشامیة : (3 / 319 ،سعید)
وکذافی الجوھرة النیرة : (2 /189  ،قدیمی )
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیة : ( 2/ 83 ،قدیمی )
وکذافی  البحر الرائق: ( 3/545  ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق : (2 /221  ،امدادیہ )
وکذافی النھر الفائق : ( 2/ 377 ،قدیمی )
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیة : ( 1/97  ، قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمٰن غفر لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/12/29/5/6/1444

جلد نمبر : 28 فتوی نمبر :187

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔