الجواب حامداً ومصلیاً
اگر اس جگہ غسل دینے والا صرف ایک ہی شخص ہوتو اس کے لیے اجرت لینا جائز نہیں ہے،اور اگر اس کے علاوہ بھی کئی لوگ غسل دے سکتے ہوں تو غسل دینے والے کے لیے اجرت لینا جائز ہے،لیکن افضل یہ ہے کہ مفت غسل دیا جائے۔
لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار : (3 /107 ،رشیدیہ )
والافضل ان یغسل) المیت( مجاناً،فان ابتغی الغاسل الاجر جاز ان کان ثمۃ غیرہ والالا)لتعینہ علیہ وینبغی ان یکون حکم الحمال والحفار کذلک
وفی الھندیة(1 /159 ،رشیدیہ )
والافضل ان یغسل المیت مجاناًوان ابتغی الغاسل الاجرفان کان ھناک غیرہ یجوز اخذ الاجر والا لم یجز
وکذافی المحیط البرھانی : ( 11/363 ،دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی فتاوی قاضیخان : ( 1/190 ،رشیدیہ )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ : (15 /150 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 /1489 ، رشیدیہ )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (3 /115 ، رشیدیہ )
وکذا فی غنیة المتملی : (607 ، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : ( 4/400 ،طارق )
وکذا فی البنایة : (3 /226 ، رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/8/1444/4/3/2023
جلد نمبر :29 فتوی نمبر :102