الجواب حامداً ومصلیاً
زندگی میں ہر شخص اپنی جائیداد کا مالک ومختار ہوتا ہے،اس میں کسی وارث کا حق نہیں ہوتا،اگروالدہ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتی ہے تو یہ ہدیہ ہے،انہیں اپنے لیے بھی ضرور کچھ رکھ لینا چاہیےتاکہ کسی کا محتاج نہ بننا پڑھ جائے،اپنے لیے کچھ رکھنے کے بعدباقی جائیداد کو اولاد میں برابرتقسیم کرنا افضل ہے،بلا وجہ کمی زیادتی نہیں کرنی چاہیے،البتہ اگر اولاد میں سے کوئی والدہ کا زیادہ فرمانبردار ہو یا مالی اعتبار سے زیادہ کمزور ہویا دینی کاموں میں مصروف ہوتو والدہ اس کو دوسروں سے زیادہ دے سکتی ہے،بشرطیکہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو۔اگر کسی وجہ سے برابر تقسیم کرنا ممکن نہ ہوتو میراث کی ترتیب کے مطابق تقسیم کرنے کی گنجائش بھی ہے۔
لما فی الھندیة: ( 4/391 ،رشیدیہ )
ولو وھب رجل شیئاًلاولادہ فی الصحۃ واراد تفضیل البعض علی البعض فی ذلک لا روایۃ لھذا فی الاصل عن اصحابناوروی عن ابی حنیفۃ انہ لا باس بھ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین وان کانا سواء یکرہ،وروی المعلی عن ابی یوسف انہ لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار وان قصد بھ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃمثل ما یعطی للابن وعلیہ الفتوی
وفی الفقہ الحنفی ( 2/392 ،طارق )
ولا باس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذا فی العطایا ان لم یقصد بھ الاضرار،وان قصد بھ الاضرار یسوی بینھم ویعطی البنت کالابن وھو قول ابی یوسف وعلیہ الفتوی
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار : ( 6/ 682 ،رشیدیہ ) وکذا فی البحر الرائق : (7 /490 ،رشیدیہ )
وکذافی خلاصة الفتاوی : ( 4/ 400 ، رشیدیہ ) وکذا فی فتاوی قاضیخان : ( 3/279 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة: (3 /133 ،الحرمین شریفین ) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : (14 /462 ،فاروقیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/8/1444/12/3/2023
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر : 99