الجواب حامداً ومصلیاً
بڑی تعداد میں اس طرح کی ایپس اب وجود میں آئی ہیں جن میں حرام ،ناجائزاور شر کوپرموٹ کرنے اور اس کی تشہیر کرنے پراجرت دی جا رہی ہے،ابھی تک ہمارے علم میں نہیں ہےکہ کوئی ایسی ایپ وجود میں آئی ہوجس میں کسی جائز کام اور مباح امورمثلاً فن اور ہنروغیرہ کی تشہیر کی جا رہی ہو،لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی جس ویب سائٹ کا ذکر ہےوہ ایسی ہی ہے جس میں بہت سارے ناجائز کام کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے،لہذا اس سے حاصل شدہ آمدنی جائز نہیں ہو گی۔
لما فی بدائع الصنائع : ( 4/39 ،رشیدیہ )
وعلی ھذا یخرج الاستئجار علی المعاصی انہ لا یصح، لانہ استئجار علی منفعۃ غیر مقدور الاستیفاءشرعاً کاستئجار الانسان للعب واللھو وکاستئجار المغنیۃ والنائحۃ للغناء والنوح
وفی الھندیة: ( 4/449 ،رشیدیہ )
ولا تجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء والنوح والمزامیر والطبل وشئ من اللھو
وکذافی خلاصة الفتاوی: (3 /116 ، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 8/35 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة : ( 3/ 429 ،البشری )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (4 /394 ،طارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : ( 15/132 ،فاروقیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1444/9/4/2023
جلد نمبر :30 فتوی نمبر :21