الجواب حامداًومصلیاً
صورت مسئولہ میں اگر چوتھی رکعت کے بعد اس نے قعدہ کر لیا تھا اور پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے پہلے یاد آگیا تو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے نماز پوری کرلے اور اگر پانچویں رکعت کے سجدہ کرنے کے بعد یاد آیا تو پھر ایک رکعت اور ملا کر آخر میں سجدہ سہو کرکےسلام پھیر دے تو چار فرض ہو جائیں گے لیکن اگر چھٹی رکعت ملائے بغیر سجدہ سہو کرکے سلام پھر دے تو چار فرض ہو جائیں گے اور ایک رکعت بیکارہو جائے گی اور چوتھی رکعت کے بعد قعدہ ہی نہیں کیا تو اس صورت میں پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلےلوٹ آئے اور سجدہ سہو کرکے سلام پھیر دے تو فرض نمازصحیح ہو جائے گی اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد یاد آیا تو ایک رکعت اور ملالے اس صورت میں اس کی پوری نماز نفل ہو گئی اس صورت میں سجدہ سہو بھی نہیں ہو گا۔
لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:(2/664،668،رشیدیة)
ولو سھاعن القعود الأخیر)کلہ أوبعضہ(عاد)۔ ۔ ۔(مالم یقیدھابسجدۃ)لان مادون الرکعۃ محل الرفض وسجد للسھولتاخیرالقعود ،(وان قیدھا)بسجدۃ عامدًا أوناسیاًأومخطئًا( تحول فرضہ نفلًابرفعہ)الجبھۃعندمحمدو بہ یفتی۔ ۔ ۔ (وضم سادسۃ)ولوفی العصروالفجر(ان شاء)۔ ۔ ۔(ولایسجدللسھوعلی الأصح)لان النقصان بالفسادلا ینجبر(وان قعدفی الرابعۃ مثلًاقدرالتشھد ثم قام، عاد وسلم)۔ ۔ ۔(وان سجدللخامسۃضم الیھاسادسۃ)۔ ۔ ۔ لوفی العصر،وخامسۃفی المغرب ورابعۃفی الفجر، بہ یفتی(لتصیرالرکعتان لہ نفلًا۔ ۔ ۔(وسجدللسھو)
وفی:الھندیة:(1/139،رشیدیة)
رجل صلی الظھرخمساوقعدفی الرابعۃقدرالتشھدان تذکرقبل أن یقیدالخامسۃبالسجدۃ انھاالخامسۃعاد الی القعدۃ وسلم کذافی المحیط ویسجدللسھو کذافی السراج الوھاج.وان تذکر بعدماقیدالخامسۃبالسجدۃانھا الخامسۃلایعودالی القعدۃولایسلم بل یضیف الیھارکعۃأخری حتی یصیرشفعاًویتشھد ویسلم ھکذافی المحیط ویسجدللسھواستحساناًکذافی الھدایۃ ۔ ۔ ۔ قالوافی العصرلایضم الیھاسادسۃوقیل یضم وھوالأصح کذافی التبیین.وعلیہ الاعتماد لأن التطوع انمایکرہ بعد العصراذاکان عن اختیارو أمااذالم یکن عن اختیارفلا یکرہ کذافی قاضی خان ۔ ۔ ۔ وان لم یقعدعلی رأس الرابعۃ حتی قام الی الخامسۃان تذکرقبل أن یقیدالخامسۃ بالسجدۃعادالی القعدۃ ھکذافی المحیط وفی الخلاصۃ ویتشھد ویسلم ویسجد للسھو کذافی التاترخانیۃ وان قید الخامسۃبالسجدۃ فسد ظھرہ عندناکذافی المحیط وتحولت صلاتہ نفلًاعند أبی حنیفۃوأبی یوسف و یضم الیھارکعۃ سادسۃ ولو لم یضم فلا شیءَ علیہ کذا فی الھدایۃ
وکذافی کنزالدقائق:(38،حقانیة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(177،البشری)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/317 ،320،دارالاحیاء)
وکذافی البحر الرائق:(1/181،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/178،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1111،رشیدیة)
وکذا فی المجع الانھر:(1/223،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاترخانیة:(2 /402،407 ،فاروقیة)
واللہ اعلم بالصواب
العبدمحمداعظم عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/8/1445/20/2/2024
جلد نمبر :31 فتوی نمبر :191