سوال

کیا مخطوبہ کو دیکھنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

گھر کی خواتین کے ذریعے ملنے والی معلومات یا احوال کے نتیجے میں مخطوبہ سے نکاح کا پختہ ارادہ ہو رہا ہو تو چھپ کر اس طرح دیکھنے کی گنجائش ہے،کہ لڑکی کو پتا نہ  چلے۔اگر نکاح کا ارادہ  نہ ہوتودیکھنا بالکل مناسب نہیں ورنہ تو لڑکی کوگائے  ، بکری کی طرح بکاؤ مال سمجھ لیا جائے گا کہ خریدار آئے، دیکھےاورچلاجائےاورلڑکی انکار کی صورت میں اذیت سے دوچار ہوتی رہے اور دیکھنے دکھانے کی باقاعدہ ترتیب نہ بنائی جائے کہ لڑکی کو تیارکرکے لڑکے اور سب کے سامنے پیش کیا جائے یا دونوں کو تنہائی میں ملاقات کا موقع دیا جائے۔بلکہ لڑکا چھپ چھپا کر کسی طرح ایک نظر لڑکی کو دیکھ لے، یا گھر کی خاتون اپنے موبائل میں لڑکی کی تصویر لڑکے کو صرف ایک بار دکھادے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(1/301،رحمانیة)
عن جابر بن عنداللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا خطب أحدکم المرأۃ فان استطاع أن ینظر الی مایدعوہ الی نکاحھا فلیفعل قال فخطبت جاریۃ فکنت أتخبألھا حتی رایت منھا ما دعانی الی نکاحھا و تزویجھا فتزوجتھا
وفی اعلاءالسنن:(17/379،ادارةالقرآن)
 وحجۃ الجمھور قول جابر فخطبت فکنت أتخبأ والراوی أعرف بعنی ما رواہ ، فدل علی أنہ لایجوز لہ أن یطلب من اولیاءھا أن یحضروھا بین یدیھ لما فی ذلک من الاستخفاف بھم ، ولا یجوز ارتکاب مثل ذلک لأمر مباح ولا أن ینظر الیھا بحیث تطلع علی رؤیتہ لھا من غیر اذنھا ، لأن المرأۃ تستحی من ذلک و یثقل نظر الأجنبی الیھا علی قلبھا لما جبلھا اللہ علی الغیرۃ وقد یفضی ذلک الی مفاسدعظیمۃ کما لا یخفی ، انما یجوزلہ أن یتخبأ لھا وینظرالیھا خفیۃ ، ومثل ھذا النظر یقتصر علی الوجہ والکف والقدم لا یعدوھا الی مواضع اللحم ولا الی جمیع البدن
وکذافی سنن الترمذی:(1/334،رحمانیة)                     وکذافی معالم السنن:(2/26،المعارف)
وکذا فی کنزالعمال:(16/123،رحمانیة)                                      وکذا فی عون المعبود:(6/58،قدیمی)
 وکذافی  مسندالامام احمد:(4/289،بیروت)                               وکذا فی نیل الاوطار:(6/123،دارالباز)
وکذا فی سنن الکبری:(7 /135،بیروت)                                        وکذا فی الدرالمختارمع الردالمحتار:(9/611،رشیدیة)
وکذافی مشکوةالمصابیح:(1/276،رحمانیة)                  وکذا فی الھندیة:(5 /330،رشیدیة)

واللہ الموفق بالصواب

العبدمحمداعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

22/8/1445 /11/2/2024

جلد نمبر :32 فتوی نمبر :10

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔