سوال

اگر معتکف ایک لمحہ کے لئے مسجد سے بھول کرنکل جائےبغیرکسی شرعی اور طبعی ضرورت کےتو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں ،اعتکاف ٹوٹ جائےگا۔

لما فی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(3/503،رشیدیة)
 فلو خرج) ولو ناسیاً(ساعۃ )زمانیۃ لا رملیۃ کما مر (بلا عذر) فسد
وفی الھندیة :(1/313،رشیدیة)
وأما مفسداتہ) فمنھا الخروج من المسجد فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلاً و نھاراالابعذروان خرج من غیرعذرفسداعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ کذا فی المحیط سواء کان الخروج عامدا أو ناسیاً ھکذافی فتاوی قاضی خان
وکذافی البحر الرائق:(2/529،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیة)
 وکذافی المحیط البرھانی :(3/380،بیروت)
وکذا فی الفتاوی الولواجیة :(1/241،الحرمین)
 وکذافی  التاتارخانیة:(3/444،فاروقیة)
وکذا فی الھدایة :(2/146،البشری)
وکذافی  القول الراجح:(1/205،اکوڑہ خٹک)
وکذا فی الجوھرة النیرة :(354،قدیمی)

واللہ الموفق بالصواب

بندہ محمداعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

25/6/1445/8/01/2024

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :72

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔