سوال

مقتدی نے امام کی اچھی قراءت سن کر زور سے ما شاءاللہ کہہ دیا تو نماز کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں مقتدی نے اگر اچھی آواز سے نماز میں حاصل  ہونے والے خشوع کی وجہ سے” ما شاءاللہ ” کہا تو نماز ہو گئ اور اگر صرف امام  صاحب کو داد دینے کے لئے کہا تو نماز ٹوٹ گئ۔

لما فی الدرالمختارمع ردالمختار:(2 /456،رشیدیة)
قولہ :لدلالۃ علی الخشوع) افادانہ لو کان استلذاذا بحسن النغمۃ یکون مفسدا
وفی بدائع الصنائع: (1/541،رشیدیة)
وان أخبر بخبریسرہ فقال: الحمد للہ،او أخبر بما یتعجب منہ،فقال: سبحان اللہ فان لم یرد جواب المخبر لم تقطع صلاتہ،وان ارادبہ جوابہ قطع عند ابی حنیفۃومحمد، وعند ابی یوسف لا یقطع وان اراد بہ الجواب وجہ قولہ ان الفساد لو فسدت انما تفسد بالصیغۃ أو بالنیۃ لا وجہ للاول لان الصیغۃ صیغۃ الاذکار ولا وجہ للثانی لان مجرد النیۃ غیر مفسد ولھا ان ھذا اللفظ لما استعمل فی محل الجواب و فھم منہ ذلک صار من ھذا الوجہ من کلام الناس،وان لم یصر من حیث الصیغۃ ومثل ھذا جائز کمن قال لرجل اسمہ یحیی وبین یدیہ کتاب موضوع “یا یحیی خذالکتاب بقوۃ” واراد بہ الخطاب بذلک، لا قراءۃ القران انہ یعد متکلما لا قارئا
وکذافی الھندیة:(1/100،رشیدیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:( 325،قدیمی کتب خانة)
 وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(2 /219،فاروقیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/121،رشیدیة)
 وکذافی کتاب الفقہ:(1/260،حقانیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/247،الطارق)
وکذافی الھدایة:(1/267، البشری)
وکذا فی البحر الرائق: (2/13،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب

حررہ:محمد اعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

25/4/1445/13/11/2025

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :169

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔