سوال

ایک شخص نے مسئلہ بتایا کہ کوئی کہے کہ میں اللہ سے بات کیے بغیر یہ کام نہیں کرونگا،تو وہ نماز پڑھ کر وہ کام کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

احادیث کے ظاہری الفاظ کی رو سے نماز پڑھنے کو اللہ تعالی سے کلام کرنا کہا جاسکتا ہے اس لیےآپ نماز پڑھ کر اپنا کام کر سکتے ہیں، لیکن بلاوجہ اس طرح کی قسم کھانے سے احتیاط کرنی چاہے۔

لما فی الصحیح البخاری :(1/58 ،قدیمی کتب خانة)
عن انس بن مالک ان النبیؑ صلی اللہ علیہ عسلم رأی نخامۃفی القبلۃ فشق   ذالک علیہ حتی رءی فی وجھھ فقام فحکہ بیدہ فقال ان احدکم اذا قام فی صلاتہ فانہ یناجی ربہ وان ربہ بینہ و بین القبلۃ فلا یبزقن احدکم قبل قبلتہ ولکن عن یسارہ او تحت قدمہ ثم اخذ طرف رداءہ فبصق فیہ ثم رد بعضہ علی بعض فقال أو یفعل ھکذا
وفی موطا الامام مالک:(1/66،رحمانیة)
عن البیاضی ان رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم خرج علی الناس وھم یصلون وقد علت اصواتھم بالقراءۃ فقال ان المصلی یناجی ربہ فلینظر بما ذا یناجیہ بہ ولا یجھر بعضکم علی بعض بالقران
وکذافی الصحیح المسلم: (1/250،رحمانیة)                           وکذافی المعجم الاوسط : ( 4/556،مکتبة المعارف)
وکذا فی سنن ابی داود :(1/258،دارالکتب)                             وکذا فی المعجم الکبیر لطبرانی:(6 /246،دار الکتب )
 وکذافی المستدرک: (1/421،قدیمی کتب خانة)                                  وکذافی المعجم الاوسط : ( 4/556،مکتبہ المعارف)
وکذا فی تفسیر الرازی:(آیة /45،علوم اسلامیة)                               وکذافی المعجم الاوسط : ( 4/556،مکتبہ المعارف)

واللہ اعلم بالصواب

حررہ: محمد اعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

16/4/1445/1/11/2023

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :151

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔