سوال

گزشتہ دنوں میں نے ایک نکاح پڑھایا چاندی کی قیمت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے حق مہر شریعت کی مقرر کردہ مقدار سے کچھ کم رکھا گیا اب اس صورت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت میں نکاح تو ہوگیا لیکن شریعت نے مہر کی کم ازکم جو مقدار متعین کی ہے وہی دینا لازم ہے یعنی دس درہم(تقریبا دو تولہ گیارہ ماشہ چاندی یا  اس کی قیمت)۔

لمافی بدائع الصنائع: (2 /561،563  ،رشیدیہ )
  فصل: واما بیان ادنی المقدار الذی یصلح مھرا فادناہ عشرۃ دراھم او ما قیمتہ عشرۃ دراھم وھذا عندنا . . . . .  فان کان المسمی اقل من عشرۃ یکمل عشرۃ عند اصحابنا الثلاثۃ
وفی ردالمحتار: (4 /220  ،بیروت )
 فان نقص وجب تکمیلہ الی العشرۃ لان المھر لاینقص عن عشرۃ
وکذافی ملتقی الابحر: (1 /508  ،مکتبةالمنار )
وکذا فی الدرالمختار: (04 / 220 ، بیروت)
وکذا فی کنزالدقائق: (103  ،حقانیة )
وکذا فی البحرالرائق: ( 03 /249 ، رشیدیة)
 وکذا فی الھندیة: (1 / 302 ، رشیدیة)
وکذا فی نھرالفائق: (02 /229  ، قدیمی)
وکذا فی التبیین الحقائق: (2 /135  ،امدادیة )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

24/06/1445/7/1/2024

جلد نمبر:31 فتوی نمبر: 84

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔