سوال

اگر مقتدی رکوع یا سجدہ کی تسبیحات بھول کر یا عمدا چھوڑ دے تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بھول کر چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں، جان بوجھ کر چھوڑنا مکروہ ہے۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/215221-،الطارق)

“وترک السنۃ فی الصلاۃ یلحق بھا کراھۃ تنزیھۃ والاساءۃ الا اذا ترکھا سھوا.
وسنن الصلاۃ ھی:۔۔۔۔الثانی عشر: التسبیح فی الرکوع ثلاثابسبحان ربی العظیم،وفی السجود ثلاثابسبحان ربی الاعلی.”

وفی الھندیۃ:(1/74،رشیدیہ)

“ویقول فی رکوعہ سبحان ربی العظیم ثلاثا وذالک ادناہ فلوترک التسبیح اصلا او اتی بہ مرۃ واحدۃ یجوز ویکرہ .”

وکذافی غنیۃ المتملی:(382،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیۃ :(1/473،سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/960،رشیدیہ)
وکذا فی السراجیہ:( 89،زم زم)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15شوال المکرم1441، 7جون2020

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔