سوال

ایک آدمی نے دعائے قنوت کی جگہ بھول کر سورۃ فاتحہ پڑھ لی پھر دعائے قنوت بھی پڑھ لی تو سجدہ سہولازم ہوگایانہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

نہیں۔

لمافی الفتاوی السراجیة:(115،زمزم کراچی)

لیس فی القنوت دعاء موقت من لم یعرف ((اللھم إنا نستعینک))یقول:((ربناأتنا فی الدنیا حسنۃ))(إلی آخرہ)وھواختیارمشایخ بخارارحمھمااللہ تعالیٰ۔أو یقول ((اللھم اغفرلنا))ویکررذلک ثلاثاوھواختیار مشایخ سمرقندرحمھم اللہ۔وبہ أخذ)أبواللیث رحمہ اللہو وقیل مقدارالقیام فی القنوت قدر سورۃ((إذااالسماءانشقت))

وفی بدائع الصنائع:(1/614،رشیدیة)

وأما دعاء القنوت فلیس فی القنوت دعاء موقت کذا ذکرالکرخی فی کتاب الصلوۃ؛لأنہ روی عن الصحابۃ أدعیۃ مختلفۃ فی حال القنوت ۔۔۔۔۔۔اللھم انانستعینک،لان الصحابۃ رضی اللہ عنھم اتفقواعلی ھذا فی القنوت فالأولی أن یقرأہ،ولو قرأ غیرہ جاز،ولو قرأمعہ غیرہ کان حسناً

وفی ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/534،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(2/341،فاروقیة)
وفی فتح القدیر:(1/446،رشیدیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1002،رشیدیة)
وفی المحیط البرھانی:(2/267،داراحیاتراث)
وفی غنیةالمتملی:(417،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1443/2022/4/17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔