سوال

ایک شخص نے شرعی سفر کی نیت سے سات کلو میٹر سفرکیا پھر قصر نماز پڑھی وہیں سے واپسی کا ارادہ بن گیا،اب یہ شخص اس نماز کو لوٹائے گا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص کی نماز ہوگئی لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔

لما فی التاتارخانیة: (2 /517  ،فاروقیة )
واذاکان مسافراًفی اول الوقت وصلی صلوۃ المسافر ثم اقام  فی الوقت لایتغیر فرضہ ،وان لم یصل حتی لواقام فی آخرالوقت  ینقلب فرضہ اربعاًوان لم یبق من الوقت الاقدر مایسع فیہ بعض الصلوۃ
وفی البحرالرائق: ( 2/ 242 ،رشیدیة )
قیدنا بعدم الاداء اول الوقت  لانہ لوصلّٰٖی صلوۃ السفر اول الوقت ثم اقام فی الوقت لایتغیر فرضہ،کذافی الخانیۃ
وکذافی ردالمحتار: (1 /728  ،بیروت )
وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1 /197  ،رشیدیة )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /265  ،رشیدیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی: (1 /330 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (1 /148  ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (2 /27  ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (1 /139،رشیدیة )
وکذافی قاضیخان: (ھندیة،1 /164  ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

16/04/1445/1/11/2023

جلد نمبر:30 فتوی نمبر:153

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔