سوال

عمرہ کرتےوقت اگرآخرمیں بال کٹوانے سے پہلے اگرکوئی مزید طواف کرناچاہے توکرسکتاہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !کرسکتاہے،مگربلاعذر بال کٹوانے میں تاخیر ناپسندیدہ ہے۔

لما فی التنویرمع الدر:(2/554،سعید)
او حلق فی حل بحج)… )أو عمرۃ( لا ختصاص الحلق بالحرم( لا)دم( فی معتمر) خرج (ثم رجح من حل) الی الحرم( ثم قصر)
وفی الشامیة:( 2/554،سعید )
و أما حلق العمرۃ فلا یتوقت بالزمان اجماعا
وفی الھدایة:(1/257،رشیدیة)
والحلق فی العمرۃغیر موقت بالزمان بالاجماع لان اصل العمرۃلایتوقت بہ
وکذا فی البحرالرائق:(2/586،رشیدیة)
وکذا فی منحةالخالق:( 2/587،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة :(1/227، رشیدیة)
وکذا فی ارشاد الساری:(59،فاروقیة)
وکذا فی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/293، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/1202/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:144

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔