الجواب حامداًومصلیاًومسلماً
مذکورہ صورت میں مرد اپنی جگہ کھڑا رہے نماز ادا ہو جائے گی ،لیکن اس طرح عورت کا مرد کے برابر کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
لما فی الدر المحتار(2/383،رشیدیہ)
”فمحاذاۃ المصلیۃ لمصل لیس فی صلاتھا مکرو ھۃ لا مفسد․“
وفی الشامیہ تحتہ(2/383،رشیدیہ)
”(قولہ مکروھۃ) الظاھر انھا تحریمیۃ، لانھا مظنۃ الشھوۃ الکراھۃ علیٰ الطاری․“
واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساھیوال
24/3/1443-2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:75