سوال

ہمارے علاقے میں کچھ رقبہ ایسا ہے جس میں سید احمد شہید رحمہ اللہ کے زمانے کی جنگ میں شہید ہونےوالوں کی قبریں ہیں ،اب وہ رقبہ ایک قبرستان کی شکل میں ہےلیکن وہاں عرصہ تقریبا ستر سال سے نہ کسی نے کوئی میت دفن کی ہے نہ ہی کوئی دوسرا تصرف کیا ہے اور یہ جگہ حکومت کی ملکیت میں بھی نہیں ہےاس رقبہ کے متصل میرے دوست کا رقبہ ہے دریافت طلب بات یہ ہے کہ میرا دوست اس رقبہ پر مسجد یا حجرہ یعنی بیٹھک وغیرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

جو زمین وغیرہ بظاہر کسی کی ملکیت نہ ہووہ حکومت کی ہی ملکیت ہے، لہذاحکومت کی اجازت کے بغیراس زمین کا استعمال کرنا درست نہیں ۔

لما فی “التنویر وشرحہ”:10/6،5،(رشیدیۃ)
“(اذااحیا مسلم او ذمی ارضا غیر منتفع بھاولیست بمملوکۃ لمسلم ولا ذمی )فلو مملوکۃ لم تکن مواتا ،فلو لم یعرف مالکھا فھی لقطۃ یتصرف فیھا الامام۔
وفی” البحر الرائق “:8/386،(رشیدیۃ)
” فاذاعرف المالک فھی لہ ،وان لم یعرف کانت لقطۃیتصرف فیھا الامام کما یتصرف فی القطۃ ۔”
وکذافی “الفتاوی الھندیۃ”(5/286،رشیدیۃ) وکذافی” الفتاوی التاتارخانیۃ”(18/343،فاروقیۃ)
وکذا فی” الفقہ الحنفی”(5/283،الطارق) وکذا فی “الھدایۃ”(4/482،رحمانیۃ)
وکذا فی “فتح القدیر”(10/84،رشیدیۃ) وکذافی” بدائع الصنائع”(5/281، رشیدیۃ)
وکذا فی “مجمع الانھر”(4/229،228،المنار) وکذا فی “الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ”(3755 ،محمودیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:76

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔