سوال

ایک آدمی نے درزی کو سوٹ دیا سینے کے لیے، چند دن بعد وہ لینے گیا تو درزی سوٹ کا ہی منکر ہو گیا اور پھر بعد میں اس نے وہی سوٹ سلا سلایا لا کر اس شخص کو دے دیا ۔آیا اب وہ شرعا اس بات کا حق رکھتا ہے یا نہیں کہ اسے اس کی مزدوری دی جائے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر درزی نے انکار سے پہلے سوٹ سی دیا تھا تو وہ اجرت کا حق دار ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ : ( 2/338 ،رشیدیہ )
القصار اذا انکر ان یکون عندہ ثوب ھذاالرجل ثم اقر وقد قصرہ قالوا ان قصرہ قبل الجحود کان لہ الاجر وان قصرہ بعد الجحود لا اجر لہ لانہ لما جحد صار غاصبا فتبطل الاجارۃ فاذا قصر بعد ذلک فقد قصر بغیر عقد فلا یستوجب الاجر
وفی الاشباہ والنظائر مع شرح الحموی: (3 /366،365 ،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
الأولى: قصار جحد الثوب وجاء به مقصورا، هل يستحق الأجر أم لا؟ فأجاب أبو يوسف رحمه الله: يستحق الأجر.فقال له الرجل: أخطأت ،فقال: لا يستحق ،فقال: أخطأت، ثم قال له الرجل: إن كانت القصارة قبل الجحود استحق، وإلا لا
وکذافی درر الحکام: (1 /708 ،المکتبہ العربیہ )
وکذا فی التنویر و شرحہ مع ر د المحتار : (9 /299،298 ،دار المعرفہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ : ( 1/298 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-08-1440، 2019-04-9
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :21

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔