سوال

درج ذیل مسائل کے بارے میں راہنمائی چاہیے :۔1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے با رے میں عمومی طور پر علماء سے سنا ہے کہ یکم محرم الحرام میں ہوئی تھی جبکہ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ بات تحقیقی نہیں ہے بلکہ عربی کتب تاریخ میں کہیں بھی یکم محرم کو وفات ثابت نہیں ،البتہ اکثر کتب تاریخ میں ذوالحجہ کے آخری ہفتہ میں وفات ثابت ہے ۔اب صحیح بات کیاہے ؟اور اگر عربی کتب سے کوئی حوالہ جات بھی مل جا ئیں تو بہت مہر بانی ہو گی۔2)عورتوں کا قبرستان جانا جائز ہے یا نہیں ؟جبکہ ایسے اوقات میں جائیں جب وہاں کوئی اجنبی مرد نہ ہوں اور کسی قسم کی بدعات اور شرکیہ افعال نہ کیے جائیں ۔کتاب وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

تمام کتب تاریخ اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ذوالحج کے آخری دنوں میں ہوا ، بعض کے نزدیک ذوالحج ختم ہونے سے تین دن پہلے اور بعض کے نزدیک چار دن پہلے(یعنی26،25یا27 ذوالحج) اور متعدد تاریخ دانوں نے اسی تاریخ کو یوم وفات قرار دیاہے۔ اور بعض نے یکم محرم کو تدفین کا دن قرار دیا ہے ،مؤخر الذکر قول زبان زد عام ہے اور اسی کو قبولیت و شہرت حا صل ہوئی ہے۔

اور یہ بات اس لیے بھی دل کو لگتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حملہ کے فورا ًبعد شہید نہیں ہوئے بلکہ تقریبا 3دن مرض الموت میں رہنے کے بعد فوت ہوئے ،لیکن حملہ چونکہ ذوالحج کے آخرکی کسی تاریخ میں ہوا تھا اس لیے اسی کو تاریخ وفات قرار دے دیا ہے۔2)اس مسئلہ میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے اکثر فقہاء عورتوں کو قبرستان جانے سے مطلقا ًمنع کرتے ہیں جبکہ بعض اس کی اجازت بھی دیتے ہیں ۔
ہماری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ عورتوں کو مطلقا ًتو جانے کی اجازت نہیں البتہ کبھی کبھارمحرم کے ساتھ یا ایک ،دو عورتیں مل کر کسی محرم یا قریبی رشتہ دارکی قبر کی زیارت کے لیے جائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، اس میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ عورتیں گروہ بنا کر ،ٹولیوں کی شکل میں نہ جائیں ۔

 

لما فی البدایۃ و النھایۃ:(7/111،دار الکتب العلمیۃ)
“وأوصى من يستخلف بعده بالناس خيرا على طبقاتهم ومراتبهم، ومات رضي اللّٰه عنه بعد ثلاث، ودفن في يوم الأحد مستهل المحرم من سنة أربع وعشرين۔”
وفی سیر اعلام النبلاء:(2/531،دار الفکر)
 وقال معدان بن أبي طلحة: أصيب عمر يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة. وكذا قال زيد بن أسلم وغير واحد. وقال إسماعيل بن محمد بن سعد بن أبي وقاص: إنه دفن يوم الأحد مستهل المحرم.
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(3/306،قدیمی)
وکذا فی اسد الغابۃ:(2/914،الوحیدة)
وکذا فی الطبقات الکبری:195/2(عمریۃ)
وفی الفتاوی الھندیة:( 5/350، رشیدیہ)
” واختلف المشايخ رحمهم اللّٰه تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه اللّٰه تعالى – الأصح أنه لا بأس بها “
وفی البحر الرائق:(2/342، رشیدیہ)
“قال في البدائع، ولا بأس بزيارة القبور ۔۔۔۔۔وقيل تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما “
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/65، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (18/160،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط :(24/10، دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1440
19/12/2018

جلد نمبر :17
فتوی نمبر :62

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔