سوال

شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہمیں بتلائیں کہ کراچی سے ساہیوال تک سامان بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری ہماری ہے یا کمپنی والوں کی؟ یہ بات بھی واضح رہے کہ ہم قیمت کی ادائیگی سامان وصول ہونے کے بعد کرتےہیں ۔ اور ان کا نمائندہ ہر ماہ ہمارے پاس آڈر لینے بھی آتا ہے

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورتحال میں آپ تک سامان بحفاظت پہنچانا کمپنی والوں کی ذمہ داری ہے، شرعا وعرفا وہ اس بات کے پابند ہیں ۔اور اگر سامان آپ تک بحفاظت نہ پہنچے تو اس کی ذمہ دار کمپنی ہے، آپ نہیں ۔ لہذا یہ سارا نقصان کمپنی برداشت کرے گی۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 2/ 139 ،رحمانیہ )
“حدثنا زهير بن حرب۔۔۔حتى ذكر عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم تضمن، ولا بيع ما ليس عندك». “
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (9 /34 ،علوم اسلامیہ )
” فإذا هلك المبيع كله قبل التسليم بآفة سماوية، فإنه يهلك على ضمان البائع، لحديث: نهى عن ربح ما لم يضمن . “
وفی د رر الحکام شرح مجلۃ الاحکام: (1 /275 ،المکتبہ العربیہ-کوئٹہ )
(المادة 293) المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. وكذلك إذا تلف المبيع في يد من سلم إليه المبيع باتفاق الطرفين ليحفظه إلى أداء الثمن فلا يترتب شيء على المشتري بل ينفسخ البيع ويعود الضرر والخسارة على البائع ۔۔۔ لان المبیع مالم یسلم الی المشتری فھو فی ضمان البائع .

 

وکذافی شرح المجلۃ: ( 1/223الی 225 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الشامیہ: (7 /103 ،دارالمعرفہ )
وکذافی فقہ البیوع: (2 /1202 ،مکتبہ معارف القرآن )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 4/102 ،الطارق )
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: (2 /157 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الفتا وی الھندیہ: (3 /19 ،رشیدیہ-کوئٹہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :97

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔