سوال

ہماری دکان پرجوملازم کام کرتےہیں ان کےآنےکاوقت تومتعین ہےلیکن چھٹی کاوقت متعین نہیں،بس جب تک کام ہوگاوہ دکان پررہیں گے،کسی دن جلدی چلےجاتےہیں اورکسی دن دیرسےجاتےہیں،یہ معاملہ شرعاًدرست ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی درست ہےکیونکہ یہاںمدت میں جہالت ملازم ومالک کےدرمیان جھگڑے کاباعث نہیں بنتی۔

لما فی التاتارخانية: ( 15/281،فاروقيه)
“والاجارة علي العمل اذاكان العمل معلوماصحيحة بدون بيان المدت.”
وفی الهندية: ( 4/411،رشيديه)
“فان كان مجهولا جهالةمفضية الي المنازعةيمنع صحة العقدوالافلا.”
وکذافی الفقه الحنفی: ( 4/385،الطارق)
وکذا فی تبیین الحقائق: (5/121،امدادیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/24، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: ( 7/530،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: ( 5/3812،رشیدیہ)
وکذا فی شرح المجلہ: ( 2/538،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440،2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :12

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔