الجواب باسم ملھم الصواب
معتبر تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ حضرت علی بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے ، جبکہ آپ کی ولادت کے مہینہ کے بارے میں کسی بھی معتبر کتاب میں تذکرہ نہیں ملتا ، ما سوائے مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ” المرتضی “ کے ، جس میں صفحہ 51 پر ” ابن سعد “ کے حوالے سے مولانا نقل فرماتے ہیں :
” صحیح روایتوں کے بموجب سیدنا علی بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے ، ابن سعد کا بیان ہے کہ آپ کی پیدائش رجب کے مہینہ ، عام الفیل کے ۳۰ ھ میں ( چھٹی صدی عیسوی ) رجب کی بارہ ( ۱۲ ) راتوں کے گزرنے کے بعد ہوئی۔“ ( المرتضی : 51 ، البرہان )
لیکن افسوس کہ مولانا کا ذکر کردہ حوالہ ہمیں تلاش بسیار کے باوجود ”طبقات ابن سعد“ میں نہ مل سکا ۔
اور سیر الصحابہ میں ہے
” حضرت علی آپ ﷺ کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے ۔“
(سیر الصحابہ : 1/194، اسلامی کتب خانہ )
اور حضرت مولانا نافع اپنی کتاب ” سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ “ میں اس طرح رقمطراز ہیں :
” بعض اقوال کے مطابق حضرت علی کی ولادت مکہ شریف میں عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی ہے اور بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ نبی اقدس ﷺ کے مولد شریف کے تیس سال بعد علی المرتضی متولد ہوئے ۔ اور یہ بھی علماء فرماتے ہیں کہ آنجناب کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی تھی ۔
“
(سیرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ : 34 ، دارالکتاب )
و فی الاصابة فی تمییز الصحابة للامام ابن حجر العسقلانی :
“و علی بن ابی طالب بن عبد المطلب …… ولد قبل البعثۃ بعشر سنین علی الصحیح 0”
(الاصابة فی تمییز الصحابة: 4/1294، الوحیدیہ )
و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :119