الجواب باسم ملھم الصواب
عام حالت میں تو حلال آمدن والے کافر شخص سے ہدیہ وغیرہ لینے کی اجازت ہے ، مگر جو چیزیں کافر لوگ اپنے مذہبی عقائد و نظریات کی تعظیم وغیرہ کے طور پر تقسیم کرتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں ، اور یہ کرسمس کا کیک خالصتاً عیسائیوں کے ایک غلط نظریہ کا عکاس ہے ، لہذا اس کا کھانا بھی درست نہیں ۔
لما فی المحیط البرھانی : ( 8 / 69 ، دار احیاء تراث العربی )
و لا بأس بطعام الیھود و النصاری کلہ من الذبائح و غیر ھا ، لقولہ تعالی : [و طعام الذین أوتوا الکتاب حل لکم ] من غیر فصل بین الذبیحۃ و غیرھا
و فی الموسوعة الفقھیة : ( 42 / 261 ، علوم اسلامیہ )
نص الحنفیۃ علی انہ لا یجوز الاھداء باسم النیروز کأن یقول عند الاھداء : ھذا ھدیۃ النیروز و المھرجان
و کذا فی صحیح البخاری : ( 1 / 458 ، رحمانیہ )
و کذا فی رد المحتار مع تنویر الأبصار و الدر :(10 / 521 ، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة:(5/ 288 ، الرشید )
و کذا فی فتاوی البزازیة علی ھامش ھندیة : ( 6 / 333 ، الرشید )
و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :120