الجواب حامداً ومصلیاً
مذکورہ صورت میں وہ آدمی اگر واپس بیٹھ کر سجدہ سہو کر لے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر چار رکعات مکمل کر لے تو یہ ظہر سے پہلے کی چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، کیونکہ سنت اور نفل میں مطلق نماز کی نیت کر لینا کافی ہے رکعات کی تعیین ضروری نہیں۔
لما فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/297، فاروقیہ )
“و إذا شرع فی التطوع و أراد أن یصلی الرکعتین، ثم بدا لہ أن یصلی أربعا بتسلیمۃ واحدۃ، جاز لہ ذلک.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/282، الطارق )
و ان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا، بعد ان قعد القعود الأخیر، عاد للجلوس عند ما یتذکر، ما لم یسجد للرکعۃ الزائدۃ،… و یسجد للسہو فی الصورتین؛ لتأخیر السلام فی الصورۃ الأولی
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار : ( 2/117، 116، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 11/66، رشیدیہ )
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 224، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 1/484، رشیدیہ )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/78، قدیمی کتب خانہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :65