الجواب باسم ملھم الصواب
مذکورہ بالا صورت میں بالٹی میں ہاتھ دالنے والا چاہے جنبی ہو یا غیرجنبی ، اگر اس کے ہاتھ پاک ہوں ، تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا درست ہے اور پانی مستعمل نہیں ہو گا ، البتہ یہ عمل ناپسندیدہ ہے ، ایسا کرنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔ 2) غسل کےدوران بالٹی میں گرنے والی پانی کی چھینٹوں سے بچنا مشکل ہوتا ہے ، لہذا اتنی مقدار میں گرنے والا پانی ” وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج “( تم کو دین کے سلسلے میں تنگی کے اندر نہیں ڈالا گیا ) کی رو سے معاف ہے ۔
لما الصحیح لمسلم : ( 169 / 1 ، رحمانیہ )
“عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا استيقظ أحدكم من نومه، فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا، فإنه لا يدري أين باتت يده».”
و فیہ ایضا فی شرح النووی علی الصحیح لمسلم 0
“المقصودۃ ھنا و ھی النھی عن غمس الید فی الاناء قبل غسلھا و ھذا مجمع علیہ لکن الجماھیر من العلماء المتقدمین المتآخرین علی انہ نہی تنزیہ لا تحریم فلو خالف و غمس لم یفسد الماء و لم یاثم الغامس .”
و فی البحر الرائق : ( 38 / 1 ، رشیدیہ )
“یکرہ ادخال الید فی الاناء قبل الغسل للحدیث و ھی کراھۃ تنزیہ ، لان النھی فیہ مصروف عن التحریم .”
و کذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 27 / 1 ، الطارق )
“و لا یصیر الماء مستعملا بمجرد ملاقاتہ للعضو المغسول ، حتی ینفصل عنہ ، و ینزل الی موضع یستقر فیہ ، او الی الارض ، فلو سقط الماء اثنا ء الاغتسال من عضو علی عضو آخر من اعضاء المغتسل ، فاجراہ علیہ و غسلہ بہ ، صح غسلہ .”
و کذا فی فتح القدیر مع العنایة : ( 1/ 17 , 18 ، رشیدیہ )
و کذا فی الکفایة مع فتح القدیر : ( 8 / 1 ، رشیدیہ )
و کذا فی البحر الرائق : ( 37 / 1 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (66 ، قدیمی )
و کذا فی بذل المجھود فی حل ابی داود : ( 206 / 1 ، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 211 / 1 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : (274 , 275 / 1 ، رشیدیہ )
و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/05/1440،2019/01/20
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:96