سوال

ہمارے ہاں بہت سارے لوگ ”ذکاء اللہ“ نام رکھتے ہیں، جبکہ لغت میں ذکاء کے بہت سارے معنی ہیں، تو اضافت کے ساتھ اس نام کا کیا مطلب ہو گا اور یہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ذکاء اللہ“ نام رکھنا درست ہے اور اس کے معنی ہیں اللہ کی طرف سے دی ہوئی ذہانت یا اللہ کی طرف سے دی ہوئی عقلمندی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة: ( 11/331، علوم اسلامیہ )
الأصل جواز التسمیۃ بأی اسم الا ما ورد النھی عنہ … وتستحب التسمیۃ بکل اسم معبد مضاف الی اللہ سبحانہ و تعالی أو الی أی اسم من الأسماء الخاصۃ بہ سبحانہ و تعالی. لان الفقھاء اتفقوا علی استحسان التسمیۃ بہ
وفی لسان العرب: ( 5/51، دار احیاء تراث العربی )
“الذکاء: سرعۃ الفطنۃ. اللیث: الذکاء من قولک قلب ذکی و صبی ذکی اذا کان سریع الفطنۃ.”
وکذا فی الھندیة: ( 5/362، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 4/2752، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/469، الطارق )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 9/688، رشیدیہ )
وکذافی المعجم الوسیط: ( 1/314، دارالدعوة)
وکذا فی القاموس الوحید: ( 572، ادارہ اسلامیات )
وکذافی لغاتِ فارسی: ( 489، مکتبہ عمر)
وکذا فی فیروز اللغات: ( 730، فیروز سنز )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :187

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔