الجواب باسم ملھم الصواب
آپ ﷺ کو میٹھا پسند تھا،لیکن کھانے سے پہلے یا بعد میں میٹھا کھانے کا مستقل معمول نہیں تھا،بلکہ جب کبھی میٹھا میسر ہوتا آپ تناول فرمالیتے،البتہ طبی فوائد کے اعتبار سے میٹھا بعد میں کھانا صحت کے لیے زیادہ مفید اور بہتر ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کھانے کے آخر میں نمک استعمال کرنے کے متعلق کوئی اثر منقول نہیں، البتہ کھانے کے شروع میں نمک استعمال کرنے سے متعلق امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل کیا ہے،لیکن اس کو بھی علماء کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔البتہ اس ضعیف اثر کی بنا پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
لما فی صحیح البخارى: (2/328،327،رحمانيہ)
و قال الامام السندی فی ھامشہ: (قولہ یحب الحلواء و العسل) لیس المراد انہ کان یکلف بصنعہ او باحضارہ بل المراد انہ لو اتفق حضورہ کان یتناول منہ قدرا صالحا فیستدل بہ علی انہ یحبہ
وفی شعب الایمان:(5/103،دارالکتب العلمیہ)
“عن علی انہ قال: من ابتدا غداءہ بالملح اذھب عنہ سبعین نوعا من البلاء.”
وکذا فی عون المعبود:(10/103،قدیمی)
وکذا فی سنن ابن ماجة:(533،داراکتب العلمیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(457،داراکتب العلمیہ)
وکذا فی المواھب اللدنیةعلی الشمائل المحمدیہ:(125،ادارہ تالیفات رشیدیہ)
وکذا فی احیاء علوم الدین:(2/16،دارالمعرفہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاويد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1440، 2019/5/22
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :67