سوال

مسجد میں رکھے ہوئے مصاحف ( قرآن کے نسخے ) کسی ضرورت مند کو دے سکتے ہیں؟ جبکہ وہ نسخے کافی تعداد میں ہوں اور رکھے رکھے بوسیدگی کا شکار ہو رہے ہوں، اگر نہیں دے سکتے تو ان کا مصرف بھی بتا دیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد کے زائد مصاحف کسی ضرورت مند کو نہیں دے سکتے، البتہ دوسری مسجد میں دیے جا سکتے ہیں۔

لما فی فتح القدیر: ( 6/202، رشیدیہ )
وفي الخلاصة، إذا وقف مصحفا على أهل المسجد لقراءة القرآن إن كانوا يحصون جاز، وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ في ذلك المسجد، وفي موضع آخر، ولا يكون مقصورا على هذا المسجد، وأما وقف الكتب فكان محمد بن سلمة لا يجيزه ونصير بن يحيى يجيزه ووقف كتبه، والفقيه أبو جعفر يجيزه وبه نأخذ
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 6/559،560، رشیدیہ )
وکذافی الشامیة: ( 6/560، رشیدیہ)
وکذا فی تقریرات الرافعی علی رد المحتار: ( 6/560، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 5/421، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :189

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔