سوال

! کسی سے قرض لیا ہو اور وہ دینا بھول جائے ، اور یہ بھی بھول جائے کہ کس کو دینا ہے، ایسی صورت میں قرض کیسے ادا کرے، جبکہ اسے حقیقی مالک کا پنہ ہی نہ ہو، یادداشت سے مٹ چکا ہو لیکن احساس ہو کہ میں نے قرض دینا ہے، کیا صدقہ کر دینے سے ادا ہو جائے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں اتنی مالیت کا اندازہ لگا کر فقراء میں صدقہ کر دے۔ امید ہے کہ اس سے آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہو گا۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار: ( 6/434، رشیدیہ )
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا نعلم بينهم خلافا…(و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبی.
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/283، الطارق )
“من کان عليه ديون ومظالم جهل أصحابها ورثتھم وأيس من معرفتهم فعليه التصدق بقدر ما علیہ من ماله.”
وکذافی الشامیة: ( 6/434، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 2/504، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: (5/367، رشیدیہ )
وکذافی مجمع الأنھر: ( 2/531، مکتبہ المنار )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 29/235، علوم اسلامیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :190

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔