الجواب ومنہ الصدق والصواب
صورت مسئو لہ میں اگر ایک ہی رکعت میں جیب سےرومال نکال کرمسلسل اور بار بار ناک صاف کیا تو عمل کثیر پائے جانے کی وجہ سے نماز نہں ہوئی دوبارہ پڑھے ۔ایسی مجبوری میں رومال وغیرہ ہاتھ میں رکھا جائے اور بوقت ضرورت ناک صاف کر لیا جائےتو نماز ہو جاتی ہے۔
لما فی خلاصۃ الفتاوی:(1/57،رشیدیہ)
“والحک بید واحد فی رکن ثلاث مرات یفسد صلاتہ—ولو کان الحک مرۃ واحدا یکرہ0”
وفی البحر الرائق:(2/20،رشیدیہ)
“وان حک ثلاثا فی رکن واحد تفسد صلاتہ ھذا اذا رفع یدہ فی کل مرہ، اما اذا لم یرفع فی کل مرۃ فلا تفسد لانہحک واحد”
وکذافی الفتاوی الھند یة:(1/104،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار :(1/652 ،سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/235،فاروقیہ)
وکذافی الفتح القدیر:(1/413،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/165،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(1/624،سعید)
وکذافی الشامیة:(1/640،سعید)
وکذافی الھند یة:(1/101،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اکرام عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019 /02/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :167