سوال

جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟ جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟ جس عورت کاشوہر فوت ہوجائے وہ عدت،شمسی مہینوں کے اعتبار سے گزارے گی یا قمری مہینوں کے اعتبار سے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کے شوہرکا انتقال قمری مہینے کی پہلی تاریخ کو ہواتوقمری مہینے کے اعتبار سے 4ماہ 10دن عدت ہوگی، ورنہ 130دن عدت ہوگی۔

لما فی الھندیۃ :(1/524 ،رشیدیہ)
لوطلق امرتہ وقت العصر من اول یوم من الشہر وھی ممن تعتد بالاشھرتعتبرعدتھا بالاھلۃ
وفیہ ایضاً:(1/527،رشیدیہ)
“اذاوجبت العدۃبالشھورفی الطلاق والوفاۃ فان اتفق ذالک فی غرۃ الشھوربالاھلۃ—وان اتفق فی خلالہ فعند ابی حنیفۃرحمہ اللہ تعالی—یعتبر فی ذالک عددالایام”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/ 7181 ،رشیدیہ )
وکذافی التاتارخانیۃ : ( 5/231، فاروقیہ)
وکذا فی تنویر الابصارمع الدرالمختار: (3/ 510 ، سعید)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ: ( 2/243 ،قدیمی )
وکذا فی النھر الفائق: (2 /477، قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر : (2 / 144 ، المنار)
وکذا فی البرجندی:(2/69،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019/2/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔