الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مذکورہ میں آپ کا یہ معاملہ درست نہیں، اس کی درست صورت یہ ہو سکتی ہےکہ آپ خودیا آپ کا وکیل بیو پاری سے خریدکر قبضہ کرلے پھر فیکٹری کو نفع کے ساتھ بیچ دے اور بیو پاری کو دوسرے دن رقم دے دےاور خود فیکٹری سے قسطوں میں وصول کرتا رہے۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3380 ،رشیدیہ)
“قال الحنفیۃ :لا یجوز التصرف فی المبیع قبل القبض بلا خلاف لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع ما لم یقبض.”
وفی الصحیح لمسلم : (2/5،قدیمی)
“عن عبداللہ بن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اشتری طعاما فلا یبیعہ حتی یستوفیہ ویقبضہ.”
وکذافی الھدایة : (3/78،رحمانیہ )
وکذافی جامع الترمذی: (1/364،رحمانیہ )
وکذافی صحیح البخاری: (1/286،قدیمی)
وکذافی اللباب : (1/219،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-8-1440،2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:30