سوال

مسبوق کی مغرب میں دو رکعتیں رہ گئی تھیں، تو اس کا قعدہ اخیرہ کون سا ہو گا، کیونکہ اس کے قعدے تین ہو جائیں گے تو تینوں قعدوں کی فقہی حیثیت واضح فرما دیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں قعدہ اخیرہ وہ ہے جس کے بعد مسبوق سلام پھیر دے، اس کے پہلے دونوں قعدےواجب اور تیسرا فرض ہے۔

لما فی غنية المستملي: (289، رشیدیہ)
“(و السادسۃ) من الفرائض (و القعدۃ الاخیرۃ) التی تکون فی آخر الصلوۃ سواء تقدمھا قعدۃ او لا کما فی الثنائية.”
وفی الموسوعة الفقهية: (37/164، علوم اسلامیہ)
“و فی الفتاوی الھندیۃ المسبوق یقضی اول صلاتہ فی حق القراءۃ و آخرھا فی التشھد، حتی لو ادرک رکعۃ من المغرب قضی رکعتین، و یفصل بقعدۃ فیکون بثلاث قعدات.”
وکذافی الشامية: (1/596، سعید)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانية: (2/180، فاروقیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح: (250، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/84، دار احیار تراث العربی)
وکذافی الھند ية: (1/91، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440، 2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:78

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔