سوال

ایک بستی کے اندرچا لیس کے قریب گھر ہیں اور کچھ ضروریات کا سامان بھی مل جاتا ہے اب پو چھنایہ ہے کہ وہاں جمعہ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکو رہ صورت میں ایسی بستی میں جمعہ جا ئز نہیں کیو نکہ صحت جمعہ کے لیے شہر یا بڑا قصبہ ہو نا شرط ہے ۔

لمافی الہندية:(1/174،رشیدیہ )
الجمعۃ فریضۃ علی الرجال الاحرار العاقلین المقیمین فی الامصار ولا یکون الموضع مصرا فی ظاہر الر وایۃ الا ان یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود وینفذ الاحکام وبلغت ابنیتہ ابنیۃ منیٰ وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر
وفی البحرالرائق: (1 /583 ،رشیدیہ )
اما المصر الجامع :فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة ادائھاعنداصحابنا حتی لا تجب بالجمعۃ الا علی اھل المصر ومن کا ن سا کنا فی توابعہ .وکذالا یصح اداءالجمعۃ الا فی ا لمصروتوابعہ فلا تجب علی اھل القری التی لیست من توابع المصر ،ولا یصح اداء الجمعۃ فیھا
وکذافی الفقہ الحنفی : (1 /318 ، الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2 /1294 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتا ر خانية: ( 2/ 459،فاروقیہ )
وکذا فی خلاصةالفتاوی : ( 1/ 207 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الا نھر : ( 1/ 245،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /217 ،امدادیہ )
وکذافی بدائع الصنائع : (1 / 585،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13-5-2019،1440-9-7
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔