الجواب حامداً ومصلیاً
شرعا یہ معاملہ درست ہے۔
لما فی احسن الفتاوی:(7/173،ایچ ایم سعید )
زیور کی بجائے اس کی قیمت لینے میں شبہ رباکی کوئی وجہ نہیں ۔
قال العلا ئی رحمہ اللہ تعالی :(و)صح(بیع من علیہ عشرۃ دراہم)دین )ممن ھی لہ )ای من دائنہ فصح بیعہ منہ (دینارابھا )اتفاقا وتقع المقاصۃ بنفس العقد اذلا ربوٰا فی دین سقط
وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی(قوله: وتقع المقاصة بنفس العقد) أي بلا توقف على إرادتهما لها، بخلاف المسألة الآتية، ووجه الجواز أنه جعل ثمنه دراهم لا يجب قبضها ولا تعيينها بالقبض وذلك جائز إجماعا؛ لأن التعيين للاحتراز عن الربا أي ربا النسيئة ولا ربا في دين سقط إنما الربا في دين يقع الخطر في عاقبته؛ ولذا لو تصارفان دراهم دينا بدنانير دينا صح لفوات الخطر.(ردالمحتارص266 ج4)
البتہ اگر زیورکی بجائےزیور ہی لیےجاتے تو مبادلۃ الجنس با لجنس ہو نے کی وجہ سے رباہو نے کامغالطہ ہو سکتا تھا ،مگر درحقیقت اس صورت میں بھی ربوٰا نہیں ، بلکہ یہ قرض ہے ۔
ربانسیئۃ جب ہو تا ہے کہ مبادلۃ الجنس بغیر الجنس ہو یا مبادلۃ الجنس با لجنس ہو اور اس میں لفظ بیع یامبادلہ یا معاوضہ استعمال کیاگیاہواگر جنس دیکر وہی جنس واپس لینے کا معاملہ کیا ہو مگر بیع یا مبادلہ یا معاوضہ کےالفاظ نہیں کہے تو یہ قرض ہے خواہ قرض کا لفظ کہے یا نہ کہے اور یہ بلا شبہ جائز ہے۔ واللہ سحانہ وتعالی اعلم
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-5-2019،9-9-1440
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:63