سوال

ایک شخص نے اپنے ایک جانور کے بارے میں نذر مانی کہ فلاں کام ہو گیا تو یہ جانور اللہ کے نام پہ دوں گا ، لیکن پھر اس نے یہ جانور بیچ دیا ،تقریبا 10 سال کے بعد اسے خیال آیا کہ میں نے تو اس جانور کی نذر مانی ہوئی تھی، حالانکہ وہ تو میں نے بیچ دیا تھا تو اب کیا کرے جبکہ اس کا کام بھی اب ہوا ہے۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

وہ آدمی اس جیسا جانور یا اس کی قیمت ادا کر دے۔

لما فی المحیط البرھانی :(6/ 356،احیاء تراث العربی )
وفیہ ایضا اذا نذر بھدی شاۃ بعینھا فاھدی مثلھا اجزأہ، وکذا اذا نذر بعتق عبد بعینہ فاعتق مثلہ اجزأہ،وھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔انہ یجوز مثلہ او افضل منہ
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : (2/ 66، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : (4/ 499، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : ( 6/ 294،فاروقیہ)
وکذا فی کتا ب الاصل : ( 3/157،عالم الکتب )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (2/ 354،الطارق )
وکذا فی البنایہ : ( 6/ 42، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : ( 2/ 339، رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر : (5/88، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 4/2552، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26، 5، 1440/ 2019، 2، 2
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:145

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔