الجواب حامداًومصلیاً
جس شخص کی نماز قضاء ہوئی ہے،اگر وہ صاحب ترتیب ہے تو پہلے ظہر کی نماز پڑھے، پھر عصر کی نماز ادا کرے، لیکن اگرصاحب ترتیب نہیں تو پہلے عصر کی نماز پڑھے اور پھر ظہر کی پڑھے۔
صاحب ترتیب وہ ہے جس کے ذمہ چھ فرض نمازیں قضا ء نہ ہوئی ہوں ۔
لمافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2 /1155 ،رشیدیہ)
ویجب ان یکون القضاء فورا باتفاق الفقہاء سواء فاتت الصلوۃ بعذر ام بغیر عذر ….. ویجب ترتیب قضاءالفوائت عند الجمھور (وبعد اسطر) ومن فاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء کما وجبت علیہ فی الاصل لان النبی ﷺشغل عن اربع صلوات یوم الخندق فقضا ھن مرتبا ،ثم قال صلو کما رایتمونی اصلی، الا ان تزید الفوائت علی ست صلوات غیر الوتر، فیسقط الترتیب بینھا، کما سقط فیما بینھا و بین الوقتیۃ.
وفی المحیط البرھانی:(2/349،ادارة القران)
ولو تذکر فی وقت العصر انہ لم یصل الظہر، وھو متمکن من اداءالظھر قبل تغیر الشمس، الا ان عصرہ اوبعض عصرہ یقع بعد التغیر عندنا، یلزمہ الترتیب، ولایجوز اداء العصر قبل قضاء الظہر( وبعد اسطر) و فی القدوری قال ابو حنیفۃ وابو یوسف رحمھما اللہ : اذا فاتتہ ستصلوات ودخل وقت السابعۃ سقط الترتیب، وقال محمد رحمہ اللہ تعالی اذا دخل وقت السادسۃ سقط الترتیب
وکذافی اللباب :(1/96،قدیمی) وکذافی الموسوعة الفقہیة:(34/31،علم اسلامیہ)
وکذافی مراقی الفلاح :(440،قدیمی) وکذافی الھندیہ:(1/122،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(2/87،دار المعرفة) وکذافی الشامیة:(2/633،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1443،2021/12/14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:5