الجواب حامداًومصلیاً
اگر مؤذن ناراض نہ ہو تو بغیر اجازت کےاقامت کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر اس کے ناراض ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا ناپسندیدہ ہے۔
لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/718،رشیدیہ)
الافضل فی المذاھب الاربعۃ ان یتولی الاقامۃ من اذن اتباعا للسنۃ فھو مقیم۔۔۔۔ لکن قال الحنفیۃ یکرہ ان یقیم غیر من اذن ان تأذی بذلک لان اکتساب اذی المسلم مکروہ، ولا یکرہ ان کان لایتأذی بہ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(99،بشری)
من اذن فھو احق بان یقیم فان اقام غیرہ یکرہ الان یغٰب المؤذن او یرضی لغیرہ فیجوز بلا کراھۃ
وکذافی الشامیة:(2 /79،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیة:(1/54،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/447،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/50،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/79،رشیدیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/392،ادارة القران)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443-2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:88