الجواب حامداًومصلیاًومسلماً
مروجہ شبینہ حضورﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں،اس لئے ناجائز ہےاور اس میں اور بھی بہت سے مفاسد پائے جاتے ہیں مثلاً(1)عموماً یہ دکھلاوے اور ریا کے لئے ہوتا ہے۔(2)لوگ سننے میں سستی کرتے ہیں ۔(3)حفاظ جلدی کی وجہ سے تجوید اور ترتیل کا خیال نہیں رکھتے۔(4)روشنی اور دیگر اشیاء میں اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔(5)عموماً اسپیکر کے استعمال کی وجہ سے لوگوں کے آرام میں خلل آتا ہے،نیز جب قرآن پڑھا جائے تو اس کا سننا واجب ہے لمبی قرات کی وجہ سے خاموشی سے سننا ممکن نہیں ہوتا لھذا لوگوں کو قرآن نہ سننے کے گناہ میں ملوث کیا جاتا ہے۔
لما فی القرآن الکریم(الاعراف:204)
”واذا قریٔ القرآن فاستمعوا وانصتوا لعلکم ترحمون․“
وفی صحیح البخاری(1/6،قدیمی کتب خانہ)
عن عبد اللہ بن عمرو عن النبیﷺ قال :المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمہاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ
وفی مشکوٰۃ المصابیح(1/27،رحمانیہ)
”عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت :قال رسول اللہ ﷺ من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد․“
وکذا فی مشکوٰہ المصابیح(1/13،رحمانیہ) وکذا فی صحیح البخاری(2/1086،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/317،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
20/5/1443-2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:91