سوال

آدمی ادائے قرض کے وقت چوری کے پیسے یاسود کے پیسے یا تراویح کی اجرت سے حاصل ہونے والے پیسے مقرض کو ادا کرتا ہے اورمقرض بھی ان پیسوں کی حقیقت کو جانتا ہے تو مقرض ایسے پیسے لے سکتا ہے ایا نہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

نہیں لے سکتا۔

لمافی الھندیة:(5/342،رشیدیہ)
أھدی الی رجل شیأاو اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ھو الحرام ینبغی ان لایقبل الھدیۃ ولا یأکل الا أن یخبرہ بانہ حلال ورثتہ او استقرضتہ من رجل
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2678،رشیدیہ)
وکذلک لایجوز استیفاء الدین من کسب حرام کالمرابی والمرتشی والغضب والسارق والمغنیۃ ولایحل للورثۃ أیضا اخذ المیراث من کسب حرام
وکذافی الفقہ البیوع:(2/1006،معارف القراٰن)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/385،ایچ،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(6/476،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/44،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/291،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
20،5،1443/2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:114

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔