الجواب حامدا ومصلیا
خیرالفتاوی میں ہے:
سیدشمس الدین مذکور(ملتان والے)ایران کےعلاقہ سبزوارمیں پیداہوئےاس لئےسبزواری کہلاتےہیں۔ان کاتعلق اہل تشیع کےفرقہ نِزاریہ سےتھااس فرقہ کاعقیدہ ہےکہ حاضرامام خداکامظہرہوتاہے۔
شمس الدین صاحب مذکورکی اپنی تصنیف کردہ کتاب”گنان برہم پرکاش“میں ہے۔
”اس کلجگ میں خداوندعالم کامظہرظہورانسانی جسم میں ہےاوروہ ساری روحوں کاشہنشاہ ہےیعنی حاضرامام۔“
ان کےنزدیک حاضرامام سب کچھ ہے۔نیزیہ لوگ اپنی عبادت گاہ کوجماعت خانہ کہتےہیں ان کاکلمہ یہ ہے۔
”اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد ان محمدارسول اللہ واشھدان علیااللہ“
اس فرقہ کاطریقہ یہ ہےکہ یہ اپنےآپ کومصلحت کےتحت کبھی سنی ظاہرکرتےہیں اورکبھی شیعہ۔کبھی کسی صوفی سلسلہ سے وابستگی ظاہرکرتےہیں۔شمس الدین صاحب مذکورکوبھی نزاری سلسلہ کےامام قاسم شاہ نےپیر کا لقب دیکرایران سے باہرتبلیغ کےلیےبھیجا تھا۔یہاں پہنچ کرجب انہوں نےعلاقہ پنجاب کی پیر پرستی کودیکھاتوانہوں نےبھی اپنےآپ کو پیر کے بہروپ میں ظاہر کیا اور درپردہ اپنےکفریہ عقائدکی تبلیغ کرتےرہے۔جاہل عوام آج تک ان کوپیراوربزرگ سمجھ کران کے معتقدچلےآرہےہیں۔
(خیرالفتاوی:1/547،امدادیہ)
محترم جناب قاضی سجادصاحب مثنوی مولوی معنوی(اردو)میں تحریرکرتےہیں
ایک مغالطہ اوراس کاازالہ
شمس تبریزی جومولانائےروم کےپیرہیں…ان کی قبرکےبارےمیں مختلف روایات ملتی ہیں۔لیکن یہ طےہیں کہ ہندوستان سےان کی قبرکاکوئی تعلق نہیں ہے۔ایک مشہورقبرشمس تبریزکےنام سےملتان کےعلاقہ میں موجودہے۔وہ یقینااس شمس تبریزکی نہیں ہےجومولانائےروم کےپیرتھے۔اس لئے کہ یہ بزرگ ساتویں صدی کےتھےاورہندوستان میں جوصاحب مدفون ہیں۔یہ دسویں گیارہویں صدی کےہیں۔
اس سلسلہ میں خواجہ حسن نظامی دھلوی مرحوم کی وہ عبارت نقل کرتےہیں جومنشی محمدالدین فوق نے”حالات شمس تبریز“نامی کتاب میں نظام المشائخ کےحوالہ سےنقل کی ہے۔
حضرت شمس(مولانائےروم کےپیر)کےوالدکی نسبت بیان کیا گیاہےکہ وہ فرقہ اسماعیلیہ سےتعلق رکھتےتھے۔مجھ کواس دعوی کےقبول کرنےمیں تامل ہے۔کیونکہ اسماعیلی فرقہ سےتعلق رکھنےوالےشمس دوسرےگزرےہیں۔
جن کامزارملتان میں ہے۔عوام ملتانی شمس تبریزی کوہی حضرت مولانائےروم کامرشدسمجھتےہیں۔حالانکہ یہ غلط ہے۔
(مثنوی مولوی معنوی(اردو):1/10،اسلامی کتب خانہ)
اردودائرہ معارف اسلامیہ میں ہے
تبریزی:عام طورپرشمس تبریزی کےنام سےمشہورہیں۔(نفحات،طبع کلکتہ،ص535میں انھیں شمس الدین محمدبن علی بن ملک دادتبریزی لکھا ہے)۔آپ صوفی اورمولاناجلال الدین رومیؒ کےمرشدتھے۔
(دائرہ معارف اسلامیہ:6/126،دانش گاہ،پنجاب)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14-08-1443/2022-03-18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:50