سوال

کہ کیا کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات ملتی ہے کہ انہوں نے ساری زندگی ایک وتر ادا کیا ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! حضرت ابن عمر کے بارے میں متعدد روایات ملتی ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی ایک وتر ادا کیا ہے۔

لما فی صحیح البخاری للامام محمد بن اسماعیل البخاری: ( 2/208 ،رحمانیہ )
“عن نافع عن عبداللہ بن عمر کان یسلم بین الرکعۃ والرکعتین فی الوتر حتی یامر ببعض حاجتہ.”
وکذافی موطا مالک: (109 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی مشکٰوۃ المصابیح : ( 1/ 115)
وکذا فی مختصر المختصر من المسند الصحیح: ( 2/ 260،شان اسلام )
وکذا فی الاستذکارلابن عبدالبر: ( 2/113 ،دار الشروق )
وکذا فی المستدرک للحاکم علی الصحیحین: ( 1/410 قدیمی کتب خانہ ، )
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة فی الآحادیث والآثار: ( 2/89 ،دارالکتب العلمیہ )
وکذا فی مسندالامام الطحاوی: ( 3/ 374 ،الحرمین )
وکذا فی نیل الاوطار: ( 3/ 53 ،دارالباز )

جبکہ تین وتر کا ثبوت بھی متعدد روایات سے ملتا ہے،پہلی روایت “سنن نسائی شریف “کی ہے جس میں حضرت ابی بن کعب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل کرتےہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وتر تین رکعت ادا کیا کرتے تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی ہر رکعت کی خاص سورت کا بھی ذکر فرمایا، روایت ملاحظہ ہو

لما فی سنن النسائی للامام ابی عبدالرحمٰن: (1/269،رحمانیہ)
“عن ابی بن کعب قال کان رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم یقرافی الوتر بسبح اسم ربک الاعلی وفی الرکعۃ الثانیۃ بقل یا ایھا الکافرون وفی الثالثۃ بقل ھواللہ احدولا یسلم الا فی آخرھن ویقول یعنی بعد التسلیم سبحان الملک القدوس ثلٰثا

حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص پڑھتے تھےاور تیسری رکعت کے بعدسلام پھیرتے تھےاورسلام پھیرنے کے بعد “سبحان الملک القدوس “تین مرتبہ پڑھتے تھے۔

دوسری روایت مستدرک حاکم ہے اس میں بھی واضح طور پر معمول مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھتے تھے،چنانچہ روایت درج ذیل ہے

وفی المستدرک للحاکم علی الصحیحن (1/ 414، قدیمی کتب خانہ)
“عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ علیہ وسلم یوتر بثلاث لا یسلم الا فی آخرھن . “

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔

وکذا فی مشکوٰة المصابیح :(1/ 115،رحمانیہ)
وکذا فی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة: (2/81، دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی السنن الکبریٰ للامام ابی بکراحمد بن حسین:(3/45، دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی المصنف للحافظ الکبیرابی بکر عبدالرزاق:(3/20،المکتب الاسلامی)
وکذا فی: شرح معانی الآثار للامام ابی جعفراحمد بن محمد:(1/186،رحمانیہ)

جن روایات میں حضرت ابن عمر کے ایک وتر والا عمل موجود ہے اس کے مندرجہ ذیل جوابات دیئےجاسکتے ہیں۔

1

حضرت ابن عمر ایک وتر ادا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین وتر کا روایات میں صراحتا ذکر ہے اور جب صحابی کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مقابلے میں آجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو صحابی کے فعل پر ترجیح دی جائے گی، لہذا یہاں بھی تین وتر کو ایک وتر پر ترجیح دی جائے گی۔

2

حضرت عقبہ بن مسلم نے حضرت ابن عمر سے وتر کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابن عمر نے پوچھا کہ تم دن کے وتر کے متعلق جانتے ہو؟تو حضرت عقبہ بن مسلم نے فرمایا جی ہاں! وہ تومغرب کی نماز ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا،تو حضرت عقبہ بن مسلم نے اعلان کیا کہ حضرت ابن عمر بھی تین وتر کے قائل ہیں اور اصول یہ ہے کہ جب قول اور فعل میں تعارض ہوجائے تو قول کو ترجیح دی جاتی ہے،لہذایہاں تین وتر کو ترجیح حاصل ہے۔

(ماخوذ:عمدة القاری:7/5،دارالعلوم کراتشی)

لما فی عمدة القاری:(7/5،داراحیاتراث)
“قال الطحاوی ففی ھذہ الآثارانہ کان یوتر بثلاث ولکن یفصل بین الواحدۃ والاثنتین (فان قلت)ھذا یوید مذھب من قال ان الوتر رکعۃ واحدۃ (قلنا) ان ابن عمر لما سالہ عقبۃ بن مسلم عن الوتر،فقال اتعرف وتر النھار؟قال:نعم صلاۃ المغرب قال صدقت او احسنت فھذا ینادی باعلیٰ صوتہ ان الوتر ابن عمر ثلاث رکعات کصلاۃ المغرب فالذی روی عنہ مما ذکرنا فعلہ وھذاقولہ والاخذ بالقول اولیٰ لانہااقویٰ وقد قلنا ان الحسن البصری حکیٰ عن اجماع المسلمین علی الثلاث بدون الفصل
وفی فتح الملھم(4/160،دار العلوم )
ابن عمر)کان یسلم بین الرکعتین والرکعۃ فی الوتر،حتیٰ انہ کان یامر ببعض حاجتہ، ولایبعد ان یقال:ان مارواہ ابن عمر مرفوعا من الفصل بالتسلیم بین الشفع والوتر:الرکعۃ الرکعتان منہ،بالتسلیم سلام التشھد،ثم لما کان سلام التشھد عندہ کسلام التحلیل کما مر منقولا من الفتح فرع علیہ ماھو مقتضاہ فی رایہ من اباحۃ الکلام وغیرہ والافلم ینقل ھوولاغیرہ فی المرفوع الکلام بین الرکعۃ والرکعتین اصلا

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمدعبداللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-2-144 3/2021 -09-25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:37

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔