الجواب حامداً ومصلیاً
جمعہ وعیدین کی ادائیگی کے لیے فقہاء کرام نے شہر یا بڑی بستی ہونا لازم قرار دیا ہے کہ جس میں اکثر ضروریات زندگی میسر ہوں مثلا:بازار ہو ،کوئی بااثر شخص ہو جو لوگوں کےآپس کے معاملات حل کرواسکے۔مفتی ہو جو لوگوں کو مسائل بتائے۔الغرض انسان کی دینی ودنیاوی ضروریات کا حل موجود ہو چونکہ مذکور ہ بستی میں بظاہر یہ شرائط موجود نہیں، لہذاجمہور کے نزدیک یہاں جمعہ وعیدین ادا کرنا بھی جائز نہیں۔البتہ اب تک جو جمعہ نمازیں ادا کی گئی ہیں انکو لوٹانا ضروری نہیں ۔کیونکہ حر ج شدیدلازم آئیگا ،اس لئے دانش مندی اور محبت سے یہ جمعہ بند کروانے کی کوشش کی جائے،لیکن اس میں فتنہ وفساد اور شرانگیزی کا ڈر ہو تو بعض فقہاء کرام جن میں مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب بھی ہیں ان کے نزدیک جہاں جمعہ شروع ہوچکا ہے وہاں جمعہ جاری رکھنے کی بھی اجازت ہے(کفایت المفتی :5/161،م:ادارۃ الفاروق کراچی)علماء کرام کے عدم جوازکے فتویٰ کے باوجود ،بستی کی دوسری مسجد میں جمعہ شروع نہیں کرنا چاہیئے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفریہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/10/1443/2021/10/31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:102